Mein Wahaan Chain Say Baithoon Ga
April 28, 2007 on 7:49 pm | In Asif Shahzad |میں وہاں چین سے بیٹھوں گا جہاں تو بیٹھے
شرط یہ ہے تو مرے پہلو بہ پہلو بیٹھے
نہ بہاریں ہیں چمن میں نہ ہے خوشبو کوئی
مجھ کو لگتا ہے کہ ہر سمت ہیں الو بیٹھے
ایسی بھر پور ہو تنقید مرے شعروں پر
یہ گماں ہوہیں یہاں حالی و منٹو بیٹھے
تجھے پانے کی تمنا جو تھی اپنے من میں
ہم ترے در پہ کئی بار دو زانو بیٹھے
نہ سمجھ پائیں گے وہ پیاس کسے کہتے ہیں
جن کی ہر آن گزرتی ہو لبِ جو بیٹھے
پارسائی کے سبھی خول اُتر جائیں گے
آمنے سامنے گر رِند کے سادھو بیٹھے
فکرِ صیاد ہے مٹھی میں انہیں قید کروں
ڈھونڈتا پھرتا ہے کس گل پہ ہیں جگنو بیٹھے
اِن کی جر ات پہ مہارت پہ یقیں ہے ہم کو
اپنی افواج میں ہیں حید ر و ٹیپو بیٹھے
ہمیں آتا ہی نہ تھا اس کے علاوہ کچھ اور
ہم ہمیشہ لئے سلجھے ہوئے گیسو بیٹھے
میرا ابو سے عقیدت کا ہے رشتہ شہزاد
میں کھڑا رہتا ہوں جب جب بھی ہوں ابو بیٹھے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^