Kar Raha Hoon Iltaja
April 28, 2007 on 7:46 pm | In Asif Shahzad |نظم
کر رہا ہوں التجا اے ابرِ دریا بار میں
شہر سے اُس کے گزر سایہ فگن ہوتے ہوئے
اور اُس کے کان میں ہولے سے یہ پیغام دے
مضطرب ہوں تیری یادوں میں مگن ہوتے ہوئے
خامشی ہے رنج ہے ویرانیاں ہیں بن ترے
کھو گیا ہے چین اور بے تابیاں ہیں بن ترے
زندگانی میں الم آراےئاں ہیں بن ترے
بزم چپ ہے ہر طرف تنہاےئاں ہیں بن ترے
اِس طرح کرنا وہاں پاسِادب سے گفتگو
وھیان رکھنا ذہن میں اُس شوخ کی تعظیم کا
خوبیاں ہی خوبیاں ہیں اُس پری رخسار میں
لائق عِزو شرف حق دار ہے تکریم کا
اُس سے کہنا کون بانٹے گا ترے غم دَیر میں
کون پونچھے گا ترے آنسو دیارِ غیر میں
جس سے تو ناراض ہے اور بے سبب ناراض ہے
کل ستارے ٹانکنے آئے گا تیرے پَیر میں
منزلوں پر جب پہنچتے ہیں بچھڑتے ہیں سبھی
راستوں میں ہم سفر چھوڑے نہیں جاتے کبھی
اُس سے کہنا زخم کھاکر بھی نبھائے جاتے ہیں
کچھ تعلق ایسے ہیں توڑے نہیں جاتے کبھی
اُس سے کہنا آدمی کو آدمی بھاتا نہیں
مطربِ صبحِ ازل بھی بھیرویں گاتا نہیں
بن ترے تو گلستاں کو گل بھی مہکاتا نہیں
اب مجھے آوارگی میں بھی سکوں آتا نہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^