Yeh Aksar Soochtay Hein Hum
April 28, 2007 on 7:30 pm | In Asif Shahzad |یہ اکژ سوچتے ہیں ہم
یہ اکژسوچتے ہیں ہم کہ بادل کی طرح برسیں
یا پھر تیری نگاہوں سے سنہرے خواب بن کر ہم گزر جائیں
فلک پر بکھرے تاروں کی طرح تیری محبت میں
جہاں میں ہم بکھر جائیں
ترے اپنے ہی کہلائیں
یہ اکژ سوچتے ہیں ہم
کہ تیرے شہر میں آ کر تجھے آواز دیں تجھ کو پکاریں
یا خموشی سے گزر جائیں
یہ اکژ سوچتے ہیں ہم
کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے
کہ سارے فاصلے ،سب دوریاں پل میں سمٹ جائیں
ہم اک دوجے کے ہو جائیں
مگر اک وہم ہے چمٹا ہے جو،اِن خواہشوں کے ساتھ
کھائے جا رہا ہے وہ ہمیں اندر ہی اندر ،زہر کی صورت
اگر ایسا نہ ہو پائے
نہ مل پائیں جو ہم تجھ سے
تو اپنے خواب آنکھوں سے بچھڑجائیں
ہماری صبح بے برگ و نوا ٹھہرے
ہمارے دن میں گرمی ہو ، تجلی ہو،نہ رونق ہو
ہماری شام کے لمحے بھی ہم کو کاٹنے دوڑیں
ہماری شب شبِ تاریک سے بڑھ کر بھیانک ہو
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^