Mein Dhoondta Hoon
April 28, 2007 on 7:30 pm | In Asif Shahzad |میں ڈھونڈتا ہوں گم شدہ دانش کو ان دنوں
پھرتا ہوں لے کے دل میں اک آتش کو ان دنوں
اَمراضِ دل کا اک یہی چارہ ہے اس لےئے
دل سے مٹانا ہے مجھے رنجش کو ان دنوں
یکجا ہیں منصف مدّعی اور مدّعا علیہ
کہتے ہیں مہر و دوستی سازش کو ان دنوں
بچوں کی اپنے پرورش کی جائے جس طرح
یوں پالتا ہوں پیار کی خواہش کو ان دنوں
بنجر زمینیں ہو گئیں عالم ہے قحط کا
دنیا ترستی ہے تری بارش کو ان دنوں
گر چہ ہیں خالی ہاتھ خود پھر بھی ہیں سوچتے
کیسے گوارا کیجیے بخشش کو ان دنوں
کٹ جائے جس کی ہم رکابی میں شبِ سیاہ
ہے ڈھونڈتا شہزاد اُس تابش کو ان دنوں
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
who is bahar i not fine it……….its nice ghzal
Comment by adeelshoukat — May 3, 2007 #