Kaya Ask Mairay Gham Mein Bahata hai Koi Shakhas
April 28, 2007 on 7:29 pm | In Asif Shahzad |کیا اشک مرے غم میں بہاتا ہے کوئی شخص
اب بھی میرا افسانہ سناتا ہے کوئی شخص
کیا واقعی وادی میں مرے نام پہ ہر شب
دیپوں کی جگہ خود کو جلاتا ہے کوئی شخص
شاید کہ میں لوٹ آؤں کسی شب ! یہی کہہ کر
خود جاگتا ہے سب کو جگاتا ہے کوئی شخص
کیا اِس لیے مرغوب اُسے میری ادا تھی
بالوں کو بھی گجروں سے سجاتا ہے کوئی شخص
امید بھی ہے خوف بھی ہے اُس کی نظر میں
آنکھیںتیری راہوں پہ بچھاتا ہے کوئی شخص
شہزاد تڑپتا ہے وہ کیا ہجر میں میرے
یا وصل کی بھی آس لگاتا ہے کوئی شخص
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^