Ik baar Mairi Simat Nazar Kar Daina
April 28, 2007 on 7:28 pm | In Asif Shahzad |اک بار مِری سمت نظر کر دینا
پھر چاہے مجھے ملک بدر کر دینا
بن تیرے دکھائی نہ دے کچھ بھی مجھ کو
ایسا مری آنکھوں پہ اَثر کر دینا
بہتر نہیں کوئی بھی عبادت اِس سے
اُجڑے ہوئے آباد نگر کر دینا
خود ہی وہ سمجھ جائیں گے آگے سب کچھ
بس اُن کے حضور آنکھ کو تر کر دینا
ُبھولا نہیں مجھ سے وہ جھگڑ کر تیرا
سینے پہ مرے رات بسر کر دینا
حق تیری ثنا کا جو ادا کر نہ سکوں
عیبوں سے مرے صَرفِ نظر کر دینا
ٰٰ
ہو حبس تو ساون کی ہوا بن جانا
گر ظلمتِ شب ہو تو سحر کر دینا
خوشیاں میرے حصے کی اُدھر لے جانا
غم اپنے مقدر کے اِدھر کر دینا
ُبھولا نہیں اب تک وہ نظر سے چھو کر
پتھر کو ترا لعل و گُہر کر دینا
آسیب کے سائے کا گماں ہے شہزاد
اِس شہر کے لوگوں کو خبر کر دینا
2 Comments »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
nice…………………..
Comment by adeelshoukat — May 2, 2007 #
excellent it is the bbest i read all poetry of you
Comment by adeelshoukat — May 3, 2007 #