Pukaar
April 28, 2007 on 7:17 pm | In Asif Shahzad |پکار
وہ اپناکینٹ جس کو چھوڑ کر آئی تھی جب سے تو
ترے جانے کے فوراً بعد سب نمناک تھی گلیاں
زمین و آسماں ،سڑکیں الم میں مبتلا تھیں ،اور پریشاں تھیں
مجھے پل پل ستاتی تھیں تری یادیں ،مجھے اُس پارک کی سڑکوں،
محلوں میں جہاں گذریں کئی راتیں ،کئی شامیں،
کئی صبحیں تری پر کیف صحبت میں
نہ ہر گز چین آتا تھا ، بِرہ تیرا ستاتا تھا
پھراُس کے بعد میں بھی چھوڑ آیا کینٹ کو آخر
جہاں تیری مری اُلفت کی دل کش داستانیں تھیں
ہمارے پیار کی خوشبو رچی تھی جس کی مٹی میں
میں اک دن کینٹ کی گلیوں سے دوری کے مہینوں بعد، اُن گلیوں میں آیا تو
وہ اک ویران سا منظر دکھاتی تھیں
وہ سب تیری جدائی کے الم میں ڈوبی رہتی تھیں
وہ دیواریں ، وہ گلیاں اور وہ سڑکیں ، عجب عالم دکھاتی تھیں
وہ جھولے پارک والے اور وہ غنچے، ترے بارے میں اِستفسار کرتے تھے
کہاں ہے کینٹ کی گڑیا ،وہ کیسی ہے،مزاج اُس کے ہیں اب کیسے
میں اُن کو یہ بتاتا تھا ،اُسے دیکھے ہوئے عرصہ ہوا مجھ کو
نہیں معلوم اُس کے حال کیسے ہیں ،
نہ خط لکھتی ہے اور نہ فون پر کچھ بات کرتی ہے
وہ سب کہنے لگے مجھ سے
کبھی اُس سے اگر تم مل بھی جاؤتو ، اُسے کہنا
کہ ہر اک پھول روتا ہے ترے غم میں
نہ غنچے مسکراتے ہیں، نہ اب کلیاںچٹکتی ہیں
نہ بلبل گیت گاتی ہے ، نہ کوئل گنگناتی ہے
وہ سب تجھ کو بلاتے ہیں ، تجھی سے پیار کرتے ہیں
وہ تیری راہیں تکتے ہیں، پلٹ آ کینٹ کی گڑیا
نہ تڑ پا کینٹ کی گڑیا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^