Dilasa
April 28, 2007 on 7:17 pm | In Asif Shahzad |دلاسہ
پکڑکر مرا ہاتھ اک دن وہ مجھ سے
لگی کہنے کچھ یوں
کہ دیکھو مرے نرم ہاتھوں کی
یہ اُنگلیاں جو ہیں خالی
کبھی اِن میں تم اپنے ہاتھوں سے پہنا دو انگشتری اِک
کبھی میرے ہاتھوں میں مہندی رچا دو
لگی کہنے اپنی کلائی دکھا کر
سنو چوڑیوں سے سجا دو اِسے اب
میں اپنی گھنیری سیاہ زلف میں
نام تیرے کا گجرا سجائے ہوئے ہوں
تو کب میرے ماتھے پہ بندیا سجانے کو آئے گا ساجن
مری آنکھ میں تیرے سپنے ہیں کب سے
اِنہیں اب حقیقت بنا دے مری جاں
محبت کا کاجل لگا دے مری جاں
جواباً کہا میں نے آنکھوں میں آنسو چھلکنے سے پہلے
یقینا کروں گا میں ویسا ہی اب کے
بہت جلد تعبیر پہنا ؤں گا تیرے خوابِحسیں کو
تجھے رشک قسمت پہ آنے لگے گا
وہ پیاری سی لڑکی
وہ معصوم گڑیا
خوشی سے اُچھلتی ہوئی لوٹ جاتی ہے
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
kia beautiful nazam……..
Comment by shahbaz butt — May 4, 2007 #