Jail Rakhta Hai Jaal Rakhta Hai
April 28, 2007 on 7:14 pm | In Asif Shahzad |جیل رکھتا ہے جال رکھتا ہے
وہ جو شطرنجی چال رکھتا ہے
گرچہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے
دل میں حزن و ملال رکھتا ہے
ہجر تیرا زمین کو ہی نہیں
آسماں تک کو لال رکھتا ہے
اتنا ہے کہ کبھی کبھی وہ شخص
ہر تمنا سنبھال رکھتا ہے
دیکھتے ہیں خزاں کی رت میں وہ
رشتے کتنے بحال رکھتا ہے
سوچتا ہوں کہ ابن آدم بھی
کیسے کیسے سوال رکھتا ہے
پیرہن تار تار ہے اس کا
ایسا اجڑا وہ حال رکھتا ہے
کون ہے وہ جو اس طرح شہزاد
تیرا بے حد خیال رکھتا ہے
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
nice buhat umdha hi………………
Comment by zubair — May 3, 2007 #